نئی دہلی،15 /ستمبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار نے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مجھے وہاں زبردست احترام ملا تھا۔ انہوں نے ممبئی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں پاکستان گیا ہوں اور مجھے بہت عزت اور احترام ملا۔ پاکستانی ایسا سمجھتے ہیں کہ اگر وہ ہندوستان میں اپنے رشتہ داروں سے نہیں مل سکتے تو انہیں ہر ہندوستانی کو ہی اپنا رشتہ دار سمجھنا چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہاں لوگ کہتے کہ پاکستانی کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اور وہ خوش نہیں ہے۔جبکہ یہ درست نہیں ہے۔غور طلب ہے کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب شرد پوار نے پاکستان کو لے کر بیان دیا ہے۔اس سے پہلے شرد پوار نے کہا تھا کہ جو لوگ بات بات پر کسی کو پاکستان چلے جانے کامفت مشورہ دینے لگتے ہیں انہیں این سی پی سربراہ شرد پوار نے ایک سخت پیغام دیا تھا۔این سی پی سربراہ شرد پوار نے سخت لہجے میں کہا تھا کہ جو لوگ مسلمانوں سے پاکستان جاؤ کہتے رہتے ہیں وہ پاکستان اور ہندوستان دونوں کے بارے میں نابلد ہیں۔شرد پوار نے کہا تھا کہ جب اقلیتی برادری کا کوئی شخص اپنی رائے ظاہر کرتا ہے اور اگر وہ رائے کچھ لوگوں کو پسند نہیں آتی ہے تو اس شخص سے پاکستان جانے کے لئے کہا جاتا ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ اسے اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ جو کہتے رہتے ہیں کہ پاکستان جاؤ ایسے لوگوں کو پاکستان یا ہندوستان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔پوار نے کہا تھا کہ مہاراشٹر حکومت کو مراٹھا برادری کے ریزرویشن کے مطالبے پر فیصلہ کرنے کے ساتھ موجودہ ریزرویشن میں چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ 'ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی کے ریزرویشن کوہاتھ نہیں لگا نا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کیا ہے؟ تقسیم سے پہلے یہ ہندوستان کا حصہ تھا۔جو لوگ اس وقت تھے، تمام ہندوستانی تھے اس وقت،مگر تقسیم کے دوران دونوں طرف کے لوگ ادھر ادھر گئے۔انہوں نے کہا تھا کہ جب میں آئی سی سی کا پریسیڈنٹ تھا، تب کئی بار مجھے پاکستان جانے کا موقع ملا۔